سینیٹ میں کورونا وائرس کی صورت حال پر بحث،اپوزیشن کی حکومت پر تنقید

اپ ڈیٹ 12 مئ 2020 10:00am
فائل فوٹو

اسلام آباد:سینیٹ اجلاس میں کورونا وائرس کی صورت حال پر بحث کے دوران اپوزیشن نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس جاری ہے جس میں ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال پر بحث کی جارہی ہے۔

اپوزیشن کیخلاف نفرت پیدا کرنے کا فلسفہ دیا جارہا ہے،راجا ظفر الحق

مسلم لیگ ن کے رہنماء راجا ظفر الحق نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتےہوئے کہا کہ اپوزیشن کیخلاف نفرت پیدا کی جارہی ہے،پوری دنیا کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے،2005کےزلزلےمیں ساری قوم اکٹھی ہوئی، اپوزیشن کیخلاف نفرت پیدا کرنے کا فلسفہ دیا جارہا ہے۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ حکومت نےاپوزیشن سےملکرحل تلاش کرنےکیلئےبیٹھناگوارا نہیں کیا،حکومت کی طرف سےدرست رویہ اختیار نہیں کیاگیا،حکومت کو چاہئے کہ غلط طریقہ کار کوترک کرے،حکومت ایسا رویہ اختیار کرتی کہ قومی اتفاق پیدا ہو۔

راجاظفرالحق نے مزید کہا کہ حکومت نےکہا لاک ڈاؤن ہمارےحق میں نہیں،بعد میں لاک ڈاؤن کیا ،حکومت کی جانب سےجو طریقہ اختیار کیاگیا وہ افسوسناک ہے،کل ایسا لگتاتھاملک کےسارے حالات ٹھیک ہوگئے،وفاق سے بیان آیا صوبےاپنے فیصلے کرنےکا اختیار رکھتےہیں،شاباش ان کو دی جاتی ہےجو زبان استعمال کرتےہیں۔

وزیراعظم کہاں اور لاپتا کیوں ہیں؟شیری رحمان

پیپلز پارٹی کی رہنماء اورسینیٹر شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مہنگامی کے حالات ہیں،تاریخ میں پہلا موقع ہے جب ہم ایسی وباءکا سامنا کررہےہیں،صوبوں کو کہہ دیاگیا آپ اپنا اپنا کام کریں،خوشی ہوئی شاہ محمودقریشی نےاس کےبرعکس بات کی،ایسا لگتاہے 18ویں ترمیم کرکےہم نے جرم کیا،ہم نے 18ویں ترمیم کی بات نہیں چھیڑی۔

شیری رحمان نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی ہوتےہی عید کی خریداری کی جارہی ہے،لاک ڈاؤن میں نرمی پر حکومت کا پیغام واضح نہیں ہے،کورونا کیسز سےمتعلق اعداد و شمار کےحقائق کےمسائل کا سامناہے،ڈبلیو ایچ او نےکہا اتحاد ضروری ہے،اس وقت کورونا کےعلاوہ کوئی بات نہ ہو،یہ ایسا وقت ہے جہاں ہمیں یکجہتی کی ضرورت ہے،حالات ایسے بننےجارہےہیں کہ ہمارےپاس صحت وسائل ختم ہورہےہیں۔

رہنماء پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کہاں اور لاپتا کیوں ہیں؟اس بات کایقین ہےوزیراعظم کو کورونا سےڈرتےنہیں لیکن پارلیمان میں آتےنہیں،18ویں ترمیم کا موجودہ صورتحال سےکوئی تعلق نہیں ،سنگین صورتحال میں وفاق سےغلطی ہوتی ہے توکل ہم سےہوگی،آج اسمارٹ کل کریزی لاک ڈاؤن اور پتانہیں کیاکیاہورہا ہے؟۔

شیری رحمان نے کہا کہ کورونا کےعلاوہ کسی اورمعاملےپربات حلف سےدیانتداری نہ ہونے کےمترادف ہے،کیوں تاثردیاجارہاہےکہ کوروناکی صورتحال کا سامناصرف حکمران جماعت کوہے؟ہم کسی کو تنہا نہیں چھوڑ رہے،ہم حکومت سےپالیسی چاہتےہیں،بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام پرسلش لگاکراحساس کفالت کانام دیاجاتا ہے،وزیراعظم اور اس کی پالیسی لاپتا ہے۔

کوئی شک نہیں کہ کورونا وائرس ایک چیلنج ہے،وزیرخارجہ

وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ کورونا وائرس ایک چیلنج ہے،مالی طورپرمستحکم ممالک بھی کورونا سےمتاثرہوئےہیں،حکومت نےوقتی طورپر تسلی بخش اقدامات کئے،وزیراعظم ہراجلاس میں سب سےپہلےوزیراعلیٰ سندھ کو سنتےہیں لیکن کورونا کا حل لاک ڈاؤن نہیں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کب کورونا سے بچاؤ کا ویکسین تیار ہوگا کسی کو علم نہیں،یہاں پوچھاگیا وزیراعظم کہاں ہیں؟بتاتاچلو وزیراعظم اسلام آباد میں ہی موجود ہیں،وزیراعظم روزانہ کی بنیاد پر کورونا سےمتعلق اقدامات کا جائزہ لیتےہیں،کورونا پر 11اجلاس کی خود وزیراعظم صدارت کرچکےہیں،اجلاس پھر نشینل کوآرڈینیشن کمیٹی کی مٹینگ میں زیربحث آتاہے،تمام پالیسز میں پیپلزپارٹی کا ان پٹ ہے۔

وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ شیری رحمان کےکنفیوژن سےمتعلق بیان کا احترام کرتاہوں،ہم نے پیپلزپارٹی کےساتھ ملکرکورونا کےخلاف حکومت عملی تیارکی،قومی ایمرجنسی ہے اور سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،وقت لگےگا ہم کورونا پھیلاؤ کو کم کرنےکی کوشش کریں گے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اجلاس نہ بلانےکی وجہ اتفاق نہ ہونا ہے،پیپلزپارٹی کےہی رہنما اجلاس بلانے کیخلاف تھے،پارلیمانی جمہوریت میں ایوان کی اہمیت سےانکارنہیں،یہ اجلاس تمام جماعتوں کی مشاورت سےبلایاگیا،ایک زمانےمیں پیپلزپارٹی میں بہت حوصلہ ہوتا تھا،ہم پیپلزپارٹی کی پریشانی دور  کرنےکی کوشش کریں گے،ہم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو یکجا کیا۔